تاریخ





جدید ترکی کا موجودہ علاقہ دنیا کے ان قدیم ترین علاقوں میں سے ہے جہاں مستقلاً انسانی تہذیب موجود 
ہے۔ چتل خیوک،چایونو، نیوالی جوری، خاجی لر، گوبکلی تپہ اور مرسین کے علاقے انسان کی اولین آبادیوں میں سے ایک ہیں۔
ترکی کے اناطولیہ ریجن کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہاں پتھر کے زمانے سے انسان موجود ہے۔ بحر اسود کے ارد گرد کے علاقے میں اب سے دس ہزار سال پہلے آبادی کے آثار ملتے ہیں۔ آسانی کے لئے ہم ترکی کی تاریخ کو ان ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں:
· زمانہ قبل ازتاریخ: 2500 ق م سے پہلے
· کانسی کا دور: 2500 ق م سے 700 ق م
· لوہے کا دور: 700 ق م سے 330 ء
· رومن بازنطینی دور: 330 ء سے 1453ء
· سلجوقی دور: 1071ء سے 1300ء
· عثمانی دور: 1299ء سے 1923ء
· ری پبلکن دور: 1923ء سے تا حال قبل از تاریخ کا زمانہ: 2500 ق م سے پہلے
ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں۔ بحراسود کی تہہ میں انسانی آبادی کے آثار ملے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ علاقے پانی سے باہر تھے۔ کسی جغرافیائی حادثے کے نتیجے میں بحراسود کی سطح بلند ہوئی اور یہ علاقے زیر آب آ گئے۔ قدیم زمانے میں اناطولیہ کا بڑا حصہ عراق کی قدیم اکدانی سلطنت کے زیر اثر رہا ہے۔تاریخی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے طوفان کا زمانہ بھی یہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ انہی کے طوفان کے باعث بحراسود کی سطح بلند ہوئی ہو۔
کانسی کا زمانہ: 2500 ق م سے لے کر 700 ق م
اس دور کو کانسی کا دو راس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں آلات اور برتنوں کا بڑا حصہ کانسی سے بنایا جاتا تھا۔ 2500 ق م کے بعد حتیوں نے اناطولیہ میں قدم جمانے شروع کر دیے۔ یہ انڈو یورپین نسل کے کسان تھے۔ انہوں نے اناطولیہ کے علاقے میں ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ ان کے قوانین معاصر تہذیبوں کی نسبت زیادہ انسان دوست تھے۔ ان کے پورے دور میں دیگر اقوام اناطولیہ پر حملے کرتی رہیں۔حتیوں کا مذہب مشرکانہ تھا جس میں وہ متعدد خداؤں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ بادشاہ کو پجاریوں کا سربراہ مانا جاتا تھا۔ حتی سلطنت 1400 ق م کے لگ بھگ اپنے عروج کو پہنچی۔ آہستہ آہستہ اسے زوال آ گیا اور اس کی جگہ متعدد تہذیبوں نے لے لی۔
حتیوں کے ساتھ ساتھ اناطولیہ کے کچھ حصے پر آشوری (Assyrians) بھی قابض رہے۔ ان کا اصل وطن دجلہ اور فرات کے درمیان کی زرخیز وادی تھی جسے میسو پوٹے میا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ یہاں سے یہ دجلہ و فرات سے اوپر کی جانب سفر کرتے ہوئے اناطولیہ پر قابض ہوئے۔
اس پورے عرصے میں ترکی کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم رہیں۔ مغرب کی جانب سے یہ یونانی اقوام کے زیر اثر رہا جبکہ مشرقی جانب سے یہ عراق کی قدیم سلطنتوں کے زیر اثر رہا۔ اس زمانے میں مغربی ترکی میں آئیونیا تہذیب، فرائ جیا تہذیب، اور ٹرائے کی تہذیب غالب رہی۔
لوہے کا دور: 700 ق م سے 330 ء
لوہے کے دور کا آغاز سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو نرم کر دیا تھا جس کے باعث انہوں نے لوہے کی وسیع سلطنت قائم کی۔ ان کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں لوہے کے علاوہ دیگر قسم کی صنعتوں کے غیر معمولی ترقی کی۔ ہواؤں کو مسخر کیا گیا۔ سمندر کے خزانوں کو تلاش کیا گیا۔ عظیم الشان عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ان کی سلطنت میں سائنسی ترقی کا یہ عالم تھا کہ یمن جیسے ترقی یافتہ ملک کی ملکہ بھی ان کے محل میں پہنچ کر خود کو دیہاتی دیہاتی سا محسوس کرنے لگی۔ یہ ترقی اسرائیل سے نکل کر دیگر قوموں تک بھی پہنچی۔
اس دور میں مغربی ترکی لڈیا کی سلطنت اور مشرقی ترکی ایران کی ہاخا منشی سلطنت کے زیر اثر آ گیا۔ 334 ق م میں اس علاقے کو یونان کے اسکندر نے فتح کر لیا مگر اس کے جانشین اتنی بڑی سلطنت کو سنبھال نہ سکے اور یہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے بعد یہاں طویل عرصے تک یونانیوں کی سلیوسی سلطنت کی حکومت رہی جو کہ 63ء تک قائم رہی۔ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے آرمینیوں کی حکومت بھی یہاں قائم رہی۔
اس کے کچھ عرصے بعد رومیوں کو عروج نصیب ہوا اور ان کے فاتحین نے پورا اناطولیہ فتح کر کے اسے روم کا حصہ بنا دیا۔ ابتدا میں یہ ایک جمہوری حکومت تھی لیکن بعد میں یہ بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے ترکی کے علاوہ موجودہ شام، اردن ، فلسطین اور مصر پر قبضہ جما لیا۔ اسی دور میں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی۔ آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں کی بڑی تعداد نے ترکی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں دعوتی و تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
رومی دور: 330 ء سے 1453ء
300ء کے لگ بھگ اس پورے علاقے کی اکثریت عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھی۔ 330ء میں رومی شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر کے اسے سرکاری مذہب قرار دیا۔ یہی وہ بادشاہ ہے جس نے موجودہ استنبول کے مقام پر عظیم شہر قسطنطنیہ بسانے کا حکم دیا جو اس کا دارلحکومت قرار پایا۔ اس سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جو بازنطین کہلاتا تھا۔
ساتویں صدی کے دوران مسلمانوں نے شام اور مشرقی ترکی کو فتح کر لیا جس کے نتیجے میں رومی سلطنت صرف اناطولیہ کے مغربی علاقوں تک محدود ہو گئی۔ 1037ء میں اس علاقے میں طغرل بیگ نے سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مشرقی اور وسطی اناطولیہ پر سلجوقوں اور مغربی ترکی پر رومنوں کی حکومت رہی۔ سلجوقی سلطنت کے زوال پر اس کی باقیات سے عثمانی ترکوں نے جنم لیا اور مشرقی ترکی پر اپنی حکومت قائم کر لی۔
18 ویں سے 13 ویں صدی قبل مسیح میں یہاں حطیوں نے پہلی بڑی ریاست تشکیل دی۔
عہد عتیق (Ancient Age) میں یہ علاقہ یونانیوں اور فارسیوں کے درمیان جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ کبھی فارسی اس علاقے پر قابض ہو جاتے اور کبھی یونانی۔ پہلی صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ رومیوں کے قبضے میں آ گیا جن کے حکمران قسطنطین اول نے324ء میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کا شہر بسایا اور اسے سلطنت روما کا دارالحکومت قرار دیا۔ بعد ازاں سلطنت روما کی تقسیم کے بعد یہ مشرقی رومی سلطنت یعنی بزنطینی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔
مسلمانوں نے ابتدائی فتوحات ہی میں موجودہ ترکی کے مشرقی علاقوں کو اپنے زیر نگیں کر لیا تھا لیکن اناضول (اناطولیہ) کے وسطی علاقے 9 ویں صدی میں سلجوقوں کی آمد تک مسلم ریاست نہ بن سکے۔ بلاد اسلامیہ پر چنگیز خانی یلغار کے بعد ترکوں نے وسط ایشیاسے ہجرت کر کے اناضول کو اپنا وطن بنایا۔ جنگ ملازکرد میں رومیوں پر سلجوقیوں کی عظیم فتح نے اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا اور یوں ترکی کا بیشتر علاقہ ہمیشہ کے لیے بلاد اسلامیہ کا حصہ بن گیا۔ سلجوقیوں کے زوال کے بعد ترکی کے سیاسی منظر نامے پر عثمانی ابھرے جنہوں نے اسلامی تاریخ کی سب سے عظیم ریاست "سلطنت عثمانیہ" تشکیل دی۔
ادرنہ کی عظیم جامع سلیمیہ مسجد، عثمانی دور کی ایک خوبصورت یادگار
سلطنت عثمانیہ 631 سال تک قائم رہی اور 16 ویں اور 17 ویں صدی میں دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی قوت تھی۔ عثمانیوں کی فتوحات ہی کے نتیجے میں اسلام وسط یورپ تک پہنچا اور مشرقی یورپکا علاقہ عرصہ دراز تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا۔ زوال کے دور کے بعد سلطنت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا اور بالآخر شکست کھا کر خاتمے کا شکار ہو گئی۔ جنگ کے بعد طے پانے والے معاہدۂ سیورے|Treaty of Sèvres کے مطابق فاتح اتحادی قوتوں نے سلطنت عثمانیہ کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر آپس میں تقسیم کر لیا۔
19 مئی 1919ء کو ترکوں نے اتحادی جارحیت کے خلاف تحریک آزادی کا اعلان کیا جس کی قیادت ایک عسکری کمان دار مصطفیٰ کمال پاشا کر رہے تھے۔ 18 ستمبر 1922ء کو تمام جارح افواج کو ترکی سے نکال باہر کیا اور ایک نئی ریاست تشکیل دی گئی جو جمہوریہ ترکیہ کہلائی۔ یکم نومبر 1922ء کو ترک مجلس (پارلیمان) نے خلافت کا خاتمہ کر دیا اور یوں اس طرح 631 سالہ عثمانی عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ 1923ء کو معاہدہ لوزان کے تحت بین الاقوامی برادری نے نو تشکیل شدہ جمہوریہ ترکیہ کو تسلیم کیا۔

No comments:

Post a Comment